ابنا: بحرین کی سیکورٹی بٹالین نامی فورسز نے بحرین میں مذہبی مقامات پر حملہ کرنے کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں مساجد اور امامبارگاہوں کے خادمین کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔ بحرینی حکومت کی سیکورٹی فورسز اسی طرح گھر گھر تلاشی لے کر لوگوں کے گھروں کے اندر کا ساز و سامان توڑ پھوڑ کر مکینوں کو زد وکوب کرتی ہيں۔
دریں اثنا کہا جارہا ہے کہ خلود الصیاد نامی سیکورٹی فورسز نے منامہ کے اسپتال سلمانیہ کے ملازمین کو تفتیش کے لئے طلب کرلیا ہے جن میں سے بہت سے کارکنوں کے بارے میں یہ معلوم نہيں ہوسکا ہے کہ تفتیش کے بعد وہ کہاں ہيں اور کس حالت میں ہیں؟
بحرین کی سیکورٹی فورسز نے بحرین کی لیبر اسلامی پارٹی کے جنرل سکریٹری شیخ محمد علی محفوظ کے گھر بھی پر حملہ کرکے انہيں گرفتار کرلیا ہے اور ان کے گھر کا سامان چوری کرکے لے گئی ہیں۔
لوگوں کے بھوک و افلاس میں مبتلا کرنے کی غرض سے سرکاری دفاتر سے انقلابی مسلمانوں کو نکالا جارہا ہے، اخبارات و جرائد کو بند کیا جارہا ہے اور سیاسی مخالفین کو گرفتار کر کے جیلوں میں بند کیا جارہا ہے۔
بحرین میں عوام کے احتجاج اور مظاہروں کی خبروں پر سنسر لگادیا گیا ہے اور یوں آل خلیفہ کی حکومت عوام کے جائز مطالبات کو نظرانداز کرتے ہوئے ان کی پرامن تحریک کو کچلنے کی ناکام کوشش کررہی ہے جس کے لئے اس نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے بھی مدد مانگی ہے اور ان ملکوں کی فوجیں بھی نہتے و بے گناہ شہریوں پر گولیاں برسارہی ہیں۔
اس پوری صورتحال میں ستم ظریفی یہ ہے کہ جمہوریت اور انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔
ان تمام باتوں کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ بحرین کی حکومت کا خیال تھا کہ انقلابیوں پر عرصہ حیات تنگ کرکے ان کے غیظ و غضب کی آگ کو ٹھنڈا کردے گی لیکن شواہد سے نشاندہی ہوتی ہے کہ بحرین کی ظالم شاہی حکومت کے اقدامات کا ابھی تک الٹا نتیجہ نکلا ہے کیونکہ نہ صرف یہ کہ بحرینی عوام کی تحریک و انقلاب کے شعلے خاموش نہيں ہوئے ہيں بلکہ اس ملک کے عوام کے ارادے اپنے مطالبات تک پہنچنے کی راہ میں اور زیادہ مستحکم ہو ئے ہيں۔
ایک طرف جہاں بحرین کے اندر، عوام آل خلیفہ کی حکومت کی سرنگونی تک اپنے مظاہرے جاری رکھنے پر زور دے رہے ہيں وہیں دوسرے ملکوں کےباشندے بھی بحرین کے عوام کے ساتھ یکجہتی اور ہمدردی کے اظہار کے طور پر ریلیاں اور جلوس نکال رہے ہيں۔
بیرون ملک مقیم بحرین کی حکومت کے مخالفین نے آنے والے جمعہ کو دنیا کے مختلف ملکوں میں احتجاجی مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بشکریہ از ریڈیو تہران
یاد رہے کہ بحرین میں پر امن شهریوں پر آل خلیفی تشدد اور بحرین پر آل سعودی آل نہیانی، آل صباحی اور آل ثانی جارحیت اس وقت وقوع پذیر ہوئی جب بڑے شیطان امریکہ کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے بحرین کا دوره کیا اور کل جب ریاض میں رابرٹ گیٹس آل سعود کے ہاں خاص عرب قہوہ پی رہے تھے اسی وقت بحرین میں آل سعودی آل خلیفی تشدد میں کئی گنا اضافہ ہوا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ علاقے کے تمام کٹھ پتلی حکمران خاندان اور ان کے مغربی آقا اسلامی بیداری کی موج عظیم کو کچلنے کے لئے کمریستہ ہوگئے ہیں لیکن شاید وہ خود بھی جانتے ہیں کہ یہ ان کی آخری ہچکیاں ہیں جہاں انسان اپنی پوری طاقت صرف کرکے آخری سانسیں لیتا ہے اور پھر ...
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110